18 دسمبر 2014 - 16:52
سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام میں ڈاکٹروں کی مشارکت پرتشویش

ڈاکٹروں کی تنظیم ، فیزیشین فار ہیومن رائٹس نے اعلان کیا ہے کہ سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام میں ڈاکٹروں نے بھی شرکت کی ہے - اس تنظیم نے کہا ہے کہ جن ڈاکٹروں نے ٹارچر پروگرام میں سی آئي اے کے ساتھ تعاون کیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے ساتھ ہی اپنے پیشے کے تقدس کو بھی پامال کیا ہے -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی تنظیم ، فیزیشین فار ہیومن رائٹس نے اعلان کیا ہے کہ سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام میں ڈاکٹروں نے بھی شرکت کی ہے - اس تنظیم نے کہا ہے کہ جن ڈاکٹروں نے ٹارچر پروگرام میں سی آئي اے کے ساتھ تعاون کیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے ساتھ ہی اپنے پیشے کے تقدس کو بھی پامال کیا ہے -

 امریکا کی بدنام زمانہ جاسوسی تنظیم سی آئي اے کے ٹارچر پروگرام کے بارے میں امریکی گانگرس کی رپورٹ جاری ہونے کے بعدانسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم ، فزیشین فار ہیومن رائٹس نے امریکا کی فیڈرل کمیٹی برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ اس پروگرام میں کتنے ڈاکٹروں نے شرکت کی ہے اور سی آئی اے کے ساتھ ان کے تعاون کی نوعیت کیا رہی ہے –

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ جن ڈاکٹروں نے سی آئی اے کے وحشیانہ ٹارچر پروگرام میں شرکت کی ہے کہ ، انہیں اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کس جواز کے تحت انہوں نے انسانیت کے خلاف سی آئی اے کے وحشیانہ جرائم میں شرکت کی ہے -

فزیشین فار ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سی آئي اے نے بہت سے قیدیوں پر غیر قانونی تجربات بھی کئے ہیں –

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بعض قیدیوں پر اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ ان کے اندر کتنی اذیتیں برداشت کرنے کی توانائی پائی جاتی ہے –

 امریکا کی اس تنظیم نے سرکاری دستاویزات و اسناد کے حوالے سے بتایا ہے کہ جارج ڈبلوبش کے دور حکومت میں سی آئي اے کے ڈاکٹر وں نے قیدیوں پر ایسے تجربات کئے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر پابندی ہے –

امریکا کی ڈاکٹروں کی ایک اور تنظیم امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے پیشے کے اخلاقی اصولوں میں ایسے اقدامات سے منع کیا گیا ہے جو ایذا رسانی کے زمرے میں آتے ہوں –

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تشدد آمیزبازپرس کے نت نئے طریقوں کی ایجاد میں نفسیانی امراض کے ماہر جن ڈاکٹروں نے سی آئي اے کے ساتھ تعاون کیا ہے ، انہیں اسی ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کی گئی ہے –

 امریکا کی سوٹا یونیورسٹی کے پروفیسر اور ڈاکٹروں کے اخلاقی اصولوں کے ماہر ، ڈاکٹر اسٹیون مائلز کا کہنا ہے کہ امریکا کی وزارت قانون ان ڈاکٹروں کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کرے گی جو سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام میں شریک رہے ہیں، اس لئے کہ سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام کو اس وقت کی امریکی حکومت اور اعلی حکام کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے.

.......

/169